بنگلورویکم فروری (ایس او نیوز)بنگلورو کے بسم اللہ نگر علاقے میں کچھ ہندو تنظیموں کی طرف سے جمعہ کی دوپہر رام مندر کے لئے چندہ جمع کرنے کی مہم کے سلسلہ میں اس علاقے میں اپنا رام رتھ لے جانے کی کوشش میں ہوئی تکرا ر کے بعد پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائی اور علاقے کے ذمہ داروں کے حرکت میں آکر کی گئی امن کمیٹی میٹنگ کے بعد حالات میں پیدا شدہ پیچیدگی ختم ہو چکی ہے۔
اس سلسلہ میں پولیس نے علاقے کے 80نوجوانوں سے پوچھ تاچھ کی اور اس کے بعد ان میں سے 55نوجوانوں کو فوری طور پر ہی گھر جانے دے دیا گیا جبکہ دیگر25نوجوانوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں رکھ لیا تھا،تاہم جانچ کے بعد ان میں سے بھی 19نوجوانوں کو معاملہ کی تحقیق میں تعاون کی شرط پر رہا کردیا گیا ہے۔گروپن پالیہ کے کارپوریٹر محمد رضوان نواب اورمقامی مساجد کے ذمہ داروں نے اس سلسلہ میں علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس اور سدگنٹے پالیہ پولیس تھانے کے انسپکٹر سے ملاقات کی اور ان سے ان نوجوانوں کی رہائی کے لئے پرزورنمائندگی کی، جن کو پولیس نے تحویل میں لے لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں پولیس نے 25نوجوانوں کو فوراً رہا کردیا اور کہا کہ دوبارہ جانچ کے لئے اگر طلب کیا گیا تو انہیں آنا پڑے گا۔ تاہم رضوان نواب نے پولیس حکام سے گزارش کی کہ ان نوجوانوں کو اگر طلب کرنا ضروری ہے تو انہیں محلہ کے ذمہ داروں کے ساتھ طلب کریں۔
اس سے پولیس حکام نے اتفاق کرلیا۔ تاہم اس واقعہ کے سلسلہ میں پولیس نے چھ نوجوانوں پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا ہے۔ رضوان نواب نے بتایا کہ جلد از جلدان نوجوانوں کو بھی رہا کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے اس واقعے کے بعد ہندو تنظیموں کی طرف سے علاقہ میں ایک جلو س نکالنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم وزیر داخلہ بسوراج بومئی اور شہر کے پولیس کمشنر کمل پنت نے اس طرح کے جلوس کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے کسی بھی جلوس سے شہر کے حالات بگڑسکتے ہیں۔پولیس حکام کے تعاون کے نتیجے میں اب علاقہ میں حالات بالکل نارمل ہیں۔